منگلورو24/جنوری (ایس او نیوز) سپریم کورٹ سے تمل ناڈو میں صدیوں سے چلنے والے بیلوں کو گھیرنے کے خطرناک کھیل جلی کٹو پر لگائی پابندی کے برخلاف عوامی احتجاج کی وجہ سے ریاستی حکومت کی طرف سے جو راحت ملی ہے اس سے کرناٹک میں کمبلا کھیل کے حامیوں میں جوش بھر گیا ہے۔
تمل ناڈو کے ہی طرز پر کرناٹکا میں دیہی کھیل کمبلا ہے جس میں کیچڑ کے میدان میں بھینسوں کو دوڑایا جاتا ہے۔ اس کھیل پر بھی پابندی لگی ہوئی ہے اور کئی دنوں سے اس کی حمایت میں آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ اب چونکہ تمل ناڈو حکومت نے وہاں پر عوام کی جانب سے پرتشدد احتجاج کے بعد ایک حکم نامے کے ذریعے جلی کٹو منانے کی اجازت دیدی ہے۔تو کرناٹکا میں بھی یہ طریقہ اپنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔کمبلا کی حمایت میں بنی کمیٹی کے علاوہ بشمول بی جے پی سیاسی پارٹیاں،ثقافتی ادارے اور مقامی لیڈران عوامی جذبات سے وابستہ اس مسئلے سے پورا فائد اٹھانے کے موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔اور پر زور احتجاج کا راستہ اپنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
اس مسئلہ پر 30جنوری کو ہائی کورٹ میں سماعت ہونی ہے، لیکن کمبلا حمایتی کمیٹی نے عدالت سے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو 28 جنوری سے پہلے نپٹا دیا جائے۔ کمیٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے فیصلہ آجاتا ہے تو پھرموڈبدری میں کمبلا وجئے اتسوا منایا جائے گا۔پروگرام کے مطابق موڈبدری کے سوراج میدان سے کڈل کیرے تک بھینسوں کی دو سو جوڑیوں کے ساتھ کمبلا ریس کا انعقاد کیا جائے گا۔ذمہ داران کا کہنا ہے کہ کمبلا صرف ایک کھیل نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ مذہبی جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ جانوروں پر ظلم کے خلاف صف بند ہونے والی تنظیمPETAکے اعتراض کے پس منظر میں کمبلا پر عدالت کی طرف سے پابند ی لگائی گئی ہے۔جلی کٹو کے سلسلے میں بھی PETAنے اس پر روک لگانے کی مانگ کی تھی اور عدالت میں اسے کامیابی ملی تھی۔اب کمبلا کی حمایت میں سیاست دانوں اور مذہبی لیڈروں کے ساتھ فلمی اداکاروں نے بھی ہاتھ ملا لیا ہے۔اور کمبلا کے انعقاد کے لئے ہر طرح کی حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس دوران اڈپی میں بی جے پی یوا مورچہ نے 28جنوری کو کمبلا پر پابندی کے خلاف'جنا آندولنا'کے نام سے احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔